Home / Press Releases  / Local PRs  / Enough of Trump’s Barking and Belligerency!

Enough of Trump’s Barking and Belligerency!

Friday, 2nd Muharram 1439 AH 22/09/2017 CE No: PR17067

Press Release

Enough of Trump’s Barking and Belligerency!

End Alliance with Foreign Powers that are Hostile to Islam and Muslims and Aid Others in their Hostility

Pakistan’s current rulers must be deposed by the sincere officers within the armed forces immediately to prevent further devastation through the alliance with the US. Prior to his UN General Assembly speech on 21st September, which conformed all of the major US foreign policy objectives for Pakistan, Pakistan’s Prime Minister, Shahid Khaqan Abbasi, stated before the US Council on Foreign Relations (CFR) that, “We have engaged with the US. We continue to engage with them to resolve any differences that come up and move forward.” Pakistan has suffered enough through an alliance with a state that is not only hostile to Islam and Muslims, it also aids others in their hostility. Alliance with the US has led to the burning of Pakistan in the fires of chaos through the introduction of the US private military and intelligence that have conducted false flag operations, bombings and murders to further US regional objectives. It ensured the exploitation of Pakistan’s formidable armed forces in operations to secure the US cowardly troops from the defiant resistance of the Afghan Taleban. It ensures the current exploitation of our resourceful intelligence in securing a political settlement in Afghanistan to provide cover for a continued US presence on the doorstep of the world’s only Muslim nuclear power. And alliance with the US has led Pakistan’s to secure the US presence of Afghanistan, whilst the US both strengthens India’s presence there and supports its brutal aggression against the Muslims of Occupied Kashmir.

As for the Pakistani regime claim that it is trying to find an alternative to the US, allying with another foreign power that is hostile to Islam and aids others in their hostility that is not a solution either. China is hostile to the Muslims of East Turkestan, preventing them from fasting in Ramadhan, entering Masajid and growing beards. China politically, economically and militarily supports the Myanmar regime even as it butchers the Rohingya Muslims. As for the CPEC (China-Pakistan Economic Corridor), it has already established Chinese ownership of key resources which is a game loser, not a game changer. The CPEC has already drowned Pakistan in even more interest based foreign debt, adding to its huge debts to other colonialist powers and institutions. Through the CPEC, the regime has established dependence on Chinese imports and labor, which is further crippling Pakistan’s long suffering local agriculture and industry. So, why must Muslims accept to be stung from the hole of foreign dependence again and again? Was once not enough?!

O Muslims of Pakistan!

Muslims can never expect security and prosperity from alliance with foreign powers that fight Islam and Muslims and aid others to do so, for Allah (swt) warned,

إِنَّمَا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ

Allah forbids your alliance with those who fight you because of your Deen, and drive you from your homelands, or aid others to do so: and as for those who turn to them in alliance, they are truly oppressors.”

(Surah al-Mumtahina 60:9)

Muslims can never expect anything but harm from alliance with the hostile powers of the People of the Book and the Mushrikeen, for Allah (swt) said,

مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

“Neither those who followed earlier revelation who deny the truth, nor the Mushrikeen like to see good bestowed upon you from your Sustainer; but Allah bestows grace upon whom He chooses- for Allah is limitless in His great bounty.”

(Surah al-Baqara 2:105)

It is high time that the Muslims end this damaging era of allying foreign powers through re-establishing the Khilafah on the Method of the Prophethood. Islamic governance alone will ensure strength for the Ummah through unifying the current Muslim states as one Khilafah and building transport, communication and energy links between the hugely resourceful Muslim lands. Moreover, rather than depending on foreign technology and investment, the Khilafah itself will invest heavily in establishing a strong heavy industry, including the manufacture of engines, heavy machinery and arms so that the economy is built on a strong footing, giving it the capacity to become the world’s leading state. Indeed, if a nation as small as North Korea can defy the barking and blustering Trump, what of the Khilafah when it arises, harnessing the power of the entire Islamic Ummah? So, stand now with Hizb ut Tahrir and demand from your brothers, fathers and sons in the armed forces their Nussrah (Material Support) for the re-establishment of the Khilafah on the Method of the Prophethood.

Media Office of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah of Pakistan

بسم الله الرحمن الرحيم

پریس ریلیز

بہت برداشت کرلیا ٹرمپ کی بکواس اور اس کے بھونکنے کو!

غیر ملکی طاقتوں سے اتحاد ختم کرو جو اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہیں اور اس دشمنی میں ایک دوسرے کی معاونت کرتی ہیں

افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران کو پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹادینا چاہیے تا کہ امریکہ کا اتحادی بننے سے ہونے والی مسلسل تباہی کو روکا اور ختم کیا جاسکے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 21 ستمبر 2017 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل امریکہ کی   خارجہ تعلقات کی کونسل (سی ایف آر) سے جو خطاب کیا اس میں پاکستان کے لیے تمام امریکی اہداف کا احاطہ کیا گیا تھا ۔ عباسی نے کہا کہ، “ہم امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جو بھی اختلافات سامنے آتے ہیں ان کو حل کرنے کے لیے ہم رابطے میں رہیں گے اور آگے بڑھیں گے”۔  پاکستان نے اس ریاست کے ساتھ اتحاد کر کےبہت نقصان اٹھایا ہے جو نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہے بلکہ اس دشمنی میں دوسروں کی بھی مدد کرتی ہے۔ امریکہ کے ساتھ اتحاد کا یہ نتیجہ ہے کہ پاکستان فتنے کی آگ میں جل رہاہے۔ یہ آگ ملک میں امریکہ کی نجی فوج اور انٹیلی جنس کو کام کرنے کی اجازت دینے سے لگی جنہوں نے امریکہ کے علاقائی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے “فالس فلیگ آپریشنز”   کے تحت بم دھماکے اور قتل و غارت گری کی مہمات چلائیں۔ امریکہ کے ساتھ اتحاد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہماری طاقتور افواج بزدل امریکی افواج کو افغان طالبان کی زبردست اور کسی صورت نہ جھکنے والی مزاحمت سے بچانے کے لیے فوجی آپریشنز کرتی رہیں۔ امریکہ کے ساتھ اتحادنے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہماری انتہائی باصلاحیت انٹیلی جنس کو افغانستان میں امریکی مرضی کے مطابق سیاسی حل کو قبول کروانے کے لیے استعمال کیا جائے تا کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی برقرار رہے اور اس کے بدلے میں امریکہ افغانستان میں بھارتی موجودگی کومستحکم   اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف اس کی وحشیانہ جارحیت کی حمایت کررہاہے۔

پاکستان کی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ امریکہ کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہے یعنی کہ ایک اور غیر ملکی طاقت سے اتحاد۔ یہ کوئی حل نہیں کیونکہ   یہ غیر ملکی طاقت بھی اسلام اور مسلمانوں کی دشمن اور اس دشمنی میں دوسروں کی مدد کرتی ہے۔ چین مشرقی ترکستان (سینکیانگ) کے مسلمانوں کے خلاف شدید جارحانہ رویہ رکھتا ہے۔ چین وہاں کے مسلمانوں کو رمضان کے روزے، مساجد میں جانے اور داڑھیاں رکھنے سے روکتا ہے۔ چین میانمار کی قصائی حکومت کی سیاسی، معاشی اور فوجی حمایت کرتا ہے جو مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے۔ جہاں تک سی پیک ( چین پاکستان اقتصادی راہداری)کا تعلق ہے تو سی پیک نے پہلے ہی پاکستان کے اہم وسائل کو چین کی ملکیت میں دے دیا ہے جو کہ پاکستان کے لیے” گیم چینجر” (Game Changer) نہیں بلکہ” گیم لوزر”(Game Loser) ہے۔ سی پیک نے پاکستان کو مزید غیر ملکی سودی قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر اس کے سر پر پہلے پڑے استعماری طاقتوں اور ان کے اداروں کے سودی قرضوں میں اضافہ کردیا ہے۔ سی پیک کے ذریعے حکومت نے پاکستان کے معاشی مستقبل کو چینی درآمدات اور لیبر کے ساتھ مشروط کردیا ہے جس کی وجہ سے مقامی زرعی اور صنعتی شعبے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جو پہلے ہی خود کو زندہ رکھنے کے لیے شدید جدوجہد کررہا ہے۔ آخرکیوں مسلمان بار بار غیر ملکی طاقتوں پرانحصار کی تباہ کُن پالیسی سے ڈسے جاتے رہیں؟ کیا ایک امریکہ کا تجربہ کافی نہیں ہے؟!

اے پاکستان کے مسلمانو!

ہمیں کبھی بھی غیر ملکی طاقتوں سے اتحاد کے ذریعے تحفظ اور خوشحالی نہیں مل سکتی جو اسلام اور مسلمانوں سے لڑتے ہیں اور اس لڑائی میں دوسروں کی مدد بھی کرتے ہیں کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

إِنَّمَا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ

“اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اُن لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی،تو جو لوگ ایسے کفار سے دوستی کریں وہی ظالم ہیں “

(الممتحنہ:9) ۔

مسلمانوں کوکبھی اہل کتاب اور مشرکین کی جارح قوتوں سے سوائے نقصان کے کوئی خیر نہیں مل سکتا کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

“نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین یہ چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمتِ خصوصیت سے عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے”(البقرۃ:105)۔  

یہی وقت ہے کہ مسلمان  غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کرنے کی تباہ کن پالیسی کے اس عہد کا خاتمہ کریں ، اور نبوت کے طریقے پر ریاست خلافت کا قیام عمل میں لائیں ۔ صرف اسلامی حکمرانی ہی مسلمانوں کو طاقتور بنائے گی کیونکہ وہ ان کے علاقوں کو ایک ریاست خلافت کے تحت یکجا کرنے کے لیے کام کرے گی اور تمام مسلم علاقوں کو سڑکوں، مواصلات اور توانائی کے منصوبوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑ دے گی۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ٹیکنالوجی اور سرمائے پر انحصار کی پالیسی کی جگہ خلافت خود بھاری صنعتوں کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کرے گی جس میں انجن سازی،بھاری مشینری اور اسلحے کی فیکڑیاں شامل ہوں گی۔ اس طرح معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو گی اور اسلامی ریاست میں دنیا کی صف اول کی طاقت اور ریاست بننے کی صلاحیت پیدا ہو گی۔ اگر آج شمالی کوریا جیسا چھوٹا ملک ٹرمپ کے بھونکنے اور دھمکیوں کے خلاف کامیابی سے مزاحمت کرسکتا ہے تو پھر وہ خلافت ٹرمپ کو کیسا منہ توڑ جواب دے گی جو تمام مسلم امت کی سیاسی، معاشی اور فوجی طاقت کامظہر ہوگی؟ لہٰذا اب حزب التحریر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور افواج میں موجود اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے نبوت کے طریقے پر خلافت کے فوری قیام کے لیے نصرۃ طلب کریں۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس