Home / Press Releases  / Local PRs  / Raheel’s US Visit – War within Pakistan only Benefits American Occupation and Hegemony of Our Region

Raheel’s US Visit – War within Pakistan only Benefits American Occupation and Hegemony of Our Region

Header Pakistan

Sunday, 10 Safar 1437 AH                    22/11/2015 CE                     No: PR15087

Press Release

Raheel’s US Visit

War within Pakistan only Benefits American Occupation and Hegemony of Our Region

General Raheel Shareef’s extensive visit to Washington heralds greater dangers for the Muslims of Pakistan through expansion of the war within Pakistan. The White House on 19 November issued a statement regarding the meeting of the US Vice President with Pakistan’s Chief of Army Staff saying that the “The Vice President thanked General Sharif for his steadfast support to counter terrorism cooperation with the United States and underscored the importance of expanding efforts to help further strengthen regional security.”  The Americans, whose cowardly forces would be eaten alive if the tribal Muslims were left alone, have a lot to thank General Raheel for, but what have the Muslims have to thank Raheel for?

Rather than the Muslims of Pakistan’s armed forces rallying together with their brothers in the tribal areas to remove the Western forces from Afghanistan, as Islam mandates, pure Muslim blood is being spilled on the both sides in a destructive war of Fitna. The purpose of Raheel’s operations in the tribal regions is purely to engage the Muslims of the region, so that they are not able to turn their attention to the American occupation in Afghanistan. This is the reality of ‘War of Terror’ and “Counter-terrorism” whereby America is killing two birds with one stone. Firstly, America is engaging the tribal Muslims within Pakistan, thus preventing them from striking the crusader forces in Afghanistan. Secondly, she is making the Pakistan Army fight Pakistan’s own citizens so that they do not even think about their responsibility before Allah (swt) to eject America out of this region. As for the excuse of Raheel’s mouthpieces that the tribal Muslims have been infiltrated by RAW, this itself was only made possible because America opened the door to India in Afghanistan that it never could have secured for itself. Moreover, such infiltration is tolerated by our so-called ally, America, because false flag operations against us keeps our army perpetually engaged in battle with the tribal Muslims. So, our tribal areas have been turned into a war zone, our cities are targeted by miscreants perpetrating false flag operations, tens of thousands of us have been killed and billions of dollars have been lost from our economy. Yet, America continually demands that we “do more” and understand the “importance of expanding efforts,” whilst thanking Raheel profusely and patting him on the back, just as it thanked Musharraf and Kayani before him.

The only strong Muslim ruler is the Khaleefah who rules by Islam, obeying Allah (swt) and His Messenger (saaw) alone. Such a ruler will never receive thanks from the enemy of Muslims, as he will be working night and day to end the colonialist presence on Muslim soil.

إِنَّمَا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ

“It is only as regards those who fought against you on account of religion, and have driven you out of your homes, and helped to drive you out, that Allah forbids you to befriend them. And whosoever will befriend them, then such are the Zalimun (wrong-doers those who disobey Allah (Al-Mumtahinah:09).

Media Office of Hizb ut-Tahrir in the Wilayah Pakistan

 

 

راحیل شریف کا دورہ امریکہ

پاکستان میں جنگ خطے میں امریکی قبضہ اور مفادات کو مستحکم کرتا ہے

جنرل راحیل شریف کا طویل دورہ امریکہ پاکستان میں جنگ کو مزید پھیلانے کا باعث بنے گا جو پاکستان کے مسلمانوں کو مزید خطرات سے دوچار کر دے گا۔ 19 نومبر کو وائٹ ہاوس نے نائب امریکی صدر اور پاکستان کے آرمی چیف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا کہ، “نائب صدر نے امریکی کاونٹر ٹیررازم مہم کی مسلسل حمایت فراہم کرنے پر جنرل شریف کا شکریہ ادا کیا اور علاقائی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لئے کوششوں کو وسیع کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا”۔ امریکیوں کو تو یقیناً جنرل راحیل کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر امریکہ کے فوجیوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہوتا تو قبائلی مسلمان انہیں زندہ ہی کھا گئے ہوتے، لیکن مسلمان راحیل کا کس بنیاد پر شکریہ ادا کریں؟

اسلام کے حکم کے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کی افواج اپنے قبائلی مسلمانوں کے ساتھ مل کر افغانستان سے مغربی افواج کو نکالنے کے لئے لڑتیں لیکن اس کے برخلاف مسلمانوں کا مقدس خون فتنے کی اس جنگ میں دونوں جانب بہہ رہا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں راحیل کے آپریشنز کا مقصد خطے کے مسلمانوں کو مصروف رکھنا ہے تاکہ وہ اپنی توجہ افغانستان میں قابض امریکی افواج پر مرکوز نہ کرسکیں۔ یہ ہے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” اور “کاونٹر ٹیررازم” کہ جس کے ذریعے امریکہ ایک تیر سے دو شکار کر رہا ہے۔ پہلا تو یہ کہ امریکہ نے اس کے ذریعے پاکستان کے قبائلی مسلمانوں کو پاکستان میں ہی مصروف کر دیا ہے اور انہیں افغانستان میں صلیبی افواج پر حملے کرنے سے روک دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ نے پاکستان آرمی کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف مصروف کر دیا ہے تاکہ وہ خطے سے امریکہ کو نکالنے کی ذمہ داری کی جانب توجہ ہی نہ دے سکیں جو اللہ نے ان پر عائد کی ہے۔ جہاں تک راحیل کے حمائتیوں کی جانب سےاس بہانے کا تعلق ہے کہ قبائلی مسلمانوں میں بھارتی “را” داخل ہو چکی ہے تو یہ بھی اسی وقت ممکن ہوا جب امریکہ نے افغانستان کے دروازے بھارت کے لئے کھول دیے جو کہ بھارت کبھی بھی خود سے نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے علاوہ اس مداخلت پر ہمارے نام نہاد اتحادی امریکہ نے اپنی آنکھیں بند رکھیں کیونکہ فالس فلیگ آپریشنز کے نتیجے میں ہماری افواج مسلسل قبائلی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں مصروف رہتی ہیں۔ لہٰذا ہمارے قبائلی علاقے جنگ زدہ علاقے میں تبدیل کر دیے گئے، ہمارے شہروں پر فالس فلیگ آپریشن کے تحت حملے ہونے لگے، ہمارے ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے اور ہماری معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ مسلسل ہم سے “ڈو مور” کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ “کوششوں کو وسیع کرنےکی اہمیت” کو سمجھتا ہے جبکہ امریکہ راحیل کا بھر پور شکریہ ادا اور اس کی پیٹھ تھپ تھپا رہا ہے جیسا کہ وہ اس سے قبل مشرف اور کیانی کے ساتھ کیا کرتا تھا۔

مسلمانوں کا حقیقی طاقتور حکمران خلیفہ ہوتا ہے جو اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرتا ہے اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے۔ ایسے حکمران کو کبھی بھی مسلمانوں کے دشمن کی جانب سے شکریہ ادا نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ دن رات مسلمانوں کی سرزمین سے استعماری طاقتوں کی موجودگی کو ختم کرنے کے لئے کام کرتا ہے۔

إِنَّمَا يَنْهَاكُمْ اللَّهُ عَنْ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ

“اللہ تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تمہارے دین کی وجہ سے تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو ایسے لوگوں سے دوستی کریں وہی ظالم ہیں” (الممتحنہ:09)

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس