Home / Press Releases  / Local PRs  / Ruling by Quran and Sunnah is Through Khilafah Rashidah, not Democracy, the System of Majority Rule

Ruling by Quran and Sunnah is Through Khilafah Rashidah, not Democracy, the System of Majority Rule

Monday, 9th Dhul Hijjah 1439 AH 20/08/2018 CE No: PR18054

Press Note

Ruling by Quran and Sunnah is Through Khilafah Rashidah, not Democracy, the System of Majority Rule

Imran Khan’s first speech as Pakistan’s 22nd prime minister on 19 August 2018 made repeated references to the glorious era of the Khulafa’a Rashideen. There is no doubt that the Muslims of Pakistan consider that Islam should be the standard for ruling. Discussion about ruling by the Quran and the Sunnah, the Madinah State, the Islamic System and the Khilafah are in the mainstream now. However the current system, Democracy will never deliver what the people desire, because in Democracy laws are made by the majority vote of the parliament rather than direct derivation from the Quran and the Sunnah. This is why previously, rulers have referred to Islam but Democracy has always disappointed Muslims. Zulfiqar Ali Bhutto called for Muslim Unity, General Zia endorsed Islamic punishments and Nawaz Sharif undertook Islamicisation drives.

The Khulafa’a Rashideen achieved all that they did of justice, prosperity and strength  through ensuring that every single law was derived from the Quran and Sunnah. So, in the Khilafah Rashidah, the judges judged by the Quran and the Sunnah and not by the British era Penal Code as in Democracy. In the Khilafah Rashidah, each and every law related to the economy was according to the Quran and Sunnah, rather than Capitalism’s private ownership of public property and interest based banking which is implemented today in Pakistan. In the Khilafah Rashida, domestic policy was according to all that Allah swt has revealed and so Muslim Lands were all considered as one state, rather than considered separate nation states as in Democracy. And in the Khilafah Rashidah, foreign policy prevented any sort of alliance with the states hostile to Islam and Muslims, such as India and America today. Nothing less than the Khilafah (Caliphate) on the Method of the Prophethood will deliver Islam. Thus, to avoid more disappointment we need to look nowhere else for all that we desire. RasulAllah (saaw) said

«وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فتَكْثُرُ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»

“There is no Prophet after me, but there will be Khulaf’aa. They asked, “What do you order us to do?” He replied, “Give them bay’ah one after another, for Allah will ask them about what He entrusted them with.” (Bukhari)

Media Office of Hizb ut Tahrir in Wilayah Pakistan

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن و سنت  پر مبنی حکمرانی کا واحد طریقہ خلافت راشدہ ہے 

نہ کہ جمہوریت جو کہ اکثریت کی حکمرانی کا نظام ہے

  عمران خان نے پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کے طور پر 19اگست 2018 کو قوم سے پہلا خطاب کیاجس میں انہوں نے بار بار خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کا ذکر کیا۔ اس بات میں کوئی شک و شبہہ نہیں کہ پاکستان کے مسلمان اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔ قرآن وسنت کی بنیادپر حکمرانی، ریاستِ مدینہ، اسلامی نظام اور خلافت کا تصور اب مرکزی دھارے کی  بحث کا حصہ ہیں۔ لیکن موجودہ نظام، یعنی کہ جمہوریت، کبھی بھی لوگوں کی اس خواہش کوپورا نہیں کرے گا کیونکہ اس نظام میں قرآن و سنت سے قوانین اخذ نہیں کیے جاتے بلکہ پارلیمنٹ کا اکثریتی ووٹ قانون بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے بھی کئی حکمرانوں نے اسلام کی بات کی لیکن جمہوری نظام کی وجہ سے عوام کو ہمیشہ مایوسی کاہی سامنا کرنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مسلمانوں کے اتحاد کی بات کی، جنرل ضیا الحق   نے اسلامی سزائیں نافذ کیں اور نواز شریف نے شریعت بل منظور کرایا لیکن پاکستان میں اسلام  نافذ نہ ہوسکا۔ 

خلفائے راشدین نے معاشرے کوجو خوشحالی، عدل اور طاقت دی اس کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ  دورِ خلافت میں قانون قرآن و سنت سے سے اخذ کیاجاتا تھا۔ لہٰذا خلافتِ راشدہ میں قاضی قرآن و سنت سے فیصلے کرتے تھے نہ کہ برطانوی پینل کوڈ سے جیسا کہ جمہوریت میں ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ میں معیشت سے متعلق ہر ایک قانون قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہوتا تھا نہ کہ آج کی جمہوریت کی طرح جہاں سرمایہ دارانہ نظام کے مطابق عوامی اثاثے  نجی ملکیت میں دے دیے جاتے ہیں اور سودی بینکاری کانظام جاری وساری ہے۔  خلافتِ راشدہ میں داخلہ پالیسی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی پرمبنی ہوتی تھی اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے تمام علاقوں کو ایک ریاست تصور کیا جاتا تھا لیکن جمہوریت میں مسلمانوں کے علاقے قومیتی ریاستوں (nation state) کی بنیاد پر الگ الگ ریاستوں میں تقسیم  ہیں۔  اور خلافتِ راشدہ میں خارجہ پالیسی  اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ریاستوں سے اتحاد کو ممنوع قرار دیتی تھی ،  آج کے دور میں ایسی ریاستوں کی مثال بھارت اور امریکہ ہیں ۔ نبوت کے طریقے پرخلافت کے علاوہ کوئی بھی منصوبہ اسلام کامکمل طور پر نفاذ نہیں کرسکتا۔  لہٰذا مزیدمایوسی سے بچنےاور اسلام کے نفاذ کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

«وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فتَكْثُرُ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»

“میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے بلکہ کثرت سے خلفاء ہوں گے۔ صحابہؓ نے پوچھا، ‘آپ ﷺ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟’ آپ ﷺ نے فرمایا، ‘تم ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کوپورا کرواور انہیں ان کا حق دو کیونکہ اللہ اُن سے اُن کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا جو اُس نے انہیں دی'”(بخاری)۔        

   

 ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس