Home / Press Releases  / Local PRs  / The Khilafah will End Hindu Aggression

The Khilafah will End Hindu Aggression

alt

Wednesday, 23 Rabi ulAwwal 1436 AH               14/01/2015 CE               N0: PR15004

Press Release

The Khilafah will End Hindu Aggression

Pakistan’s Regime Accuses India of Hostility, Yet Extends Friendship

Hizb ut Tahrir condemns the regime of treachery in its dealing with India. The Adviser to Prime Minister Nawaz Sharif on National Security and Foreign Affairs Sartaj Aziz said on 12 January in an interview with the DawnNews program ‘Faisla Awam Ka,’ that India is using Afghan soil to carry out attacks on Pakistan. However, in the same interview, Sartaj Aziz called for increased normalization of ties with India.

Within the circles of the leadership, there are constant discussions about how the Indians are infiltrating the tribal areas and launching attacks on Pakistan’s armed forces and civilian populations. This opinion is then used to justify the military operations in the tribal regions. However, were the regime sincere to its claim, it would end India’s diplomatic presence within Pakistan, for India is a hostile state and must be treated as such. From the days of the Cold War, it is well known that throughout the world diplomatic missions are used for spying, funding and supervising hostile operations.

As if this were not treachery enough, the regime maintains loyalty to America, even though it is America that opened Afghanistan to India. With American support, India now has several consulates within Afghanistan, along the border with Pakistan, all within easy reach of the tribal regions. Yet, the Raheel- Nawaz regime continues to support the American occupation through maintaining NATO supply lines, as well as operations against those mujahideen whose sole target are the crusader occupying forces.

Hizb ut Tahrir calls upon the sincere officers within Pakistan’s armed forces to end the treachery of the regime. It reminds them that their duty is to grant the Nussrah to Hizb ut Tahrir for the immediate re-establishment of the Khilafah, an Islamic state which will end any hostile presence on Muslim soil. Moreover, the Khilafah state will be the starting point for the unification of the Muslim Lands, gathering the Muslims of Pakistan, Afghanistan and Bangladesh as one effective force against the Hindu mushrikeen enemy. Allah (swt) said, لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا “You will surely find that of all the people, the most hostile to the believers are the Jews and the mushrikeen.” [Surah al-Maidah 5:82]

Media Office of Hizb ut Tahrir in the Wilayah of Pakistan

 

خلافت ہندو جارحیت کا خاتمہ کردے گی

حکومت ِ پاکستان بھارت پر جارحیت کا الزام لگاتی ہے اور ساتھ ہی دوستی کا ہاتھ بھی بڑھاتی ہے

حزب التحریر بھارت کے ساتھ تعلقات اور معاملات کے حوالے سے حکومت پاکستان کے غدارانہ طرز عمل کی مذمت کرتی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے قومی سلامتی اور امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے 12 جنوری کو ڈان نیوز کے پروگرام “فیصلہ عوام کا”میں کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان پر حملے کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ لیکن اسی انٹرویو میں سرتاج عزیز نے بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات کے قیام پر زور بھی دیا۔ ۔

قومی سلامتی اور حکومتی حلقوں میں یہ بات تسلسل سے کی جارہی ہے کہ بھارت قبائلی علاقوں میں مداخلت کررہا ہے اور پاکستان کی افواج اور شہریوں پر حملے کروا رہا ہے۔ پھر ان حلقوں میں موجود اس رائے عامہ کو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کرنے کے لئے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر حکومت اپنے دعویٰ میں سچی ہوتی تو وہ پاکستان میں بھارت کی سفارتی موجودگی کا خاتمہ کرتی کیونکہ بھارت ایک جارح ملک ہے اور اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے۔ سرد جنگ کے زمانے سے یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں سفارت خانے جاسوسی اور تخریبی کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان نگرانی کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اور جیسے یہی کچھ کم نہ تھا کہ حکمرانوں نے امریکہ سے وفاداری کے تعلق کو برقرار رکھا ہے جس نے بھارت پر افغانستان کے دروازے کھولے ہیں۔ امریکہ کی مدد و حمائت سے بھارت نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ افغانستان میں کئی قونصل خانے کھولے ہیں جہاں سے قبائلی علاقے انتہائی قریب ہیں۔ لیکن اس باوجود راحیل-نواز حکومت نے افغانستان پر امریکی قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے نیٹو سپلائی لائن کو برقرار رکھا ہے اور ان مجاہدین کے خلاف آپریشن کررہی ہے جوصلیبی امریکی افواج کے خلاف افغانستان میں جہاد کررہے ہیں۔

حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت کی اس غداری کو ختم کریں۔ وہ انہیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ خلافت کے فوری قیام کےلئے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں جو اسلامی ریاست ہونے کے ناطے مسلم سرزمین پر دشمن کی موجودگی کا خاتمہ کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں خلافت کا قیام مسلم سرزمینوں کو یکجا کرنے کے لئے نقطہ آغاز ثابت ہوگا اور پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش کے مسلمان ایک عظیم متحد قوت کی صورت میں ہندو مشرکین کے خلاف یکجا ہوں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں، لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا “ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے”(المائدہ:82)

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس