Home / Press Releases  / Local PRs  / Hizb ut-Tahrir Wilayah Pakistan’s latest policy release

Hizb ut-Tahrir Wilayah Pakistan’s latest policy release

Hizb ut-Tahrir Wilayah Pakistan’s latest policy release

The Armed Forces’ military doctrine under the Khilafah

Hizb ut-Tahrir Wilayah Pakistan has issued a following Publicized Policy Position (PPP) regarding the military doctrine of the armed forces of the soon to be established Khilafah. Our noble armed forces have been enslaved to America and her interests, through America’s controlling its direction by means of traitors within Pakistan military and political leadership

In 2013, the Pakistan Army’s India centric doctrine has been revised and now defines internal threats as the greatest risk to the countries security. India is no longer seen as a threat to our security, and America’s so called war on terror, which is a war on Islam and Muslims, is the primary focus for the Pakistan Army. This revision is made at a time when America desperately seeks to establish a permanent military presence in the region, camouflaged by a limited troop withdrawal. The Green Book declaration is a conclusion of the strategy adopted by the US since 9/11 to re-orientate Pakistan, its role in the area, and the role of the Pakistani armed forces. The US objective has been three fold: 1. To ensure that the Pakistan army is engaged in a perpetual war within its own borders. 2. To change the Indian centric focus within the army, in order to enable the rise of India as a regional power. 3. To use the army as a way of policing the Ummah in its quest for the return of the K000.

The extensive and significant paper concludes with the following vision for our armed forces, calling for,

1. A Khaleefah who as the political and military leadership will orientate the armed forces to fulfill their role in protecting the Ummah from the hostile non-Muslim states, unifying all Muslim states as a single state and carrying Islam to all of humankind.

2. Ending all technological dependency on hostile states, by establishing a programme of rapid industrialization for attaining military superiority, supported by a superior economic system which provides huge revenues for all of the duties obliged upon the Khilafah state.

3. Ending all training dependency on hostile states, by instituting local military training and Islamic awareness programmes for the armed forces. Cutting all contact with the officials of hostile states and all resultant relationships such as foreign military training, intelligence sharing and military to military contact.

Note: To see complete policy and its relevant articles of the constitution for the Khilafah state please go to this web link:

Policy regarding the Armed Forces’ military doctrine under the Khilafah

Media office of Hizb ut Tahrir in Pakistan


بسم الله الرحمن الرحيم

پیر 22 ربیع الثانی، 1434ھ 04/03/2013 نمبر:PN13027

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے افواج کے متعلق پالیسی جاری کر دی

خلافت میں افواج کا فوجی نظریہ

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے جلد ہی قائم ہونے والی خلافت کی افواج کے فوجی نظریہ کے حوالے سے مندرجہ ذیل پالیسی دستاویز “Publicized Policy Position” جاری کی ہے۔ ہماری زبردست افواج،سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی وجہ سے امریکہ اور اس کے مفادات کی غلام بنی ہوئی ہیں اور امریکہ ہماری افواج کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔

2013 میں افواج پاکستان کی بھارت کو دشمن نمبر اول سمجھنے کی فوجی پالیسی کو تبدیل کر دیا گیا اور اب ملک کی سیکیوریٹی کو درپیش سب سے بڑا خطرہ اندرونی خطرات کو قرار دے دیا گیا ہے۔ اب بھارت کو پاکستان کی سیکیوریٹی کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جا رہا اور امریکہ کی خود ساختہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، جو درحقیقت مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے، افواج پاکستان کی پہلی ترجیح بن گئی ہے۔ فوجی نظریے میں یہ بنیادی تبدیلی اس وقت کی گئی ہے جب امریکہ افغانستان سے انخلأ کے دھوکے میں خطے میں اپنے مستقل فوجی اڈے قائم کرنے کی شدید کوشش کر رہا ہے ۔سبز کتاب (Green Book) میں کی جانے والی تبدیلی اور اس کا اعلان 11/09 کے بعد امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کا نتیجہ ہے جس کے تحت پاکستان کی ترجیحات، خطے میں اس کے اور افواج پاکستان کے کردار میں تبدیلی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ امریکہ کے تین اہداف ہیں: 1( اس بات کو یقینی بنانا کہ افواج پاکستان اپنی ہی سرحدوں کے اندر مسلسل جنگ میں مصروف رہیں۔ 2( فوج میں بھارت کو دشمن نمبر ایک سمجھنے کی پالیسی کو تبدیلی کرنا تاکہ بھارت ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھر سکے۔ 3( امت کو خلافت کی واپسی کے لیے کام کرنے سے روکنے کے لیے افواج کو پولیس کا کردار اداکرنے کے لیے استعمال کرنا۔

یہ اہم اور تفصیلی پالیسی ہماری افواج سے متعلق امور پر مندرجہ ذیل ویژن رکھتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ:

1۔ خلیفہ سیاسی اور فوجی قائد ہونے کے ناطے افواج کی سمت کا تعین کرے گا تاکہ وہ امت کو غیر مسلم دشمن ممالک سے تحفظ، مسلم ممالک کو جوڑ کر ایک ریاست بنانے اور اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک لے کر جانے کی ذمہ داری کو نبھائیں۔

2۔ ایک تیز رفتار صنعتی ترقی جس کے ذریعے فوجی برتری قائم ہو اور اعلی معاشی نظام جو ریاست ِخلافت کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے عظیم محاصل فراہم کرسکے۔ ان اقدامات کے ذریعے دشمن ریاستوں پر ٹیکنالوجی کے انحصار کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

3۔ مقامی فوجی تربیتی اداروں کے قیام اور اسلامی ثقافت کی آگاہی کے ذریعے دشمن ممالک سے فوجی تربیت کی ضرورت کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ دشمن ریاستوں کے اہلکاروں سے تمام تعلقات منقطع کر لیے جائیں گے جن میں فوجی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور ایک فوج کا دوسرے ملک کی فوج سے تعلق بھی شامل ہے۔

نوٹ: اس پالیسی دستاویز اور اس سے متعلقہ ریاست خلافت کی آئینی دفعات کو دیکھنے کے لیے اس ویب سائٹ لنک کو دیکھیں۔

خلافت میں ا فواج کے فوجی نظریہ اور مقاصدکے حوالے سے پالیسی
ربیع الثانی 1434،بمطابق مارچ2013

میڈیا آفس حزب التحریر ولایہ پاکستان

 

 

04/03/2013
Monday, 22nd Rabi ul Thani 1434H
N0: PN13027
Friday, 7th of Jamdi ul-Awwal